Al Shifa Athra Capsules – Herbal Female Reproductive & Fertility Wellness Support
Al Shifa Athra Capsules are a traditional herbal formulation developed for women's reproductive health, maternal wellness, and concerns traditionally known as Athra. Presented by Al Shifa Natural Herbal Dawakhana.
Key Benefits:
Dosage: 1 capsule in the morning and 1 capsule at night, one hour after meals with water.
Complete Course Duration: 45 Days
Brand: Al Shifa Natural Herbal – Trusted Since 1999
Precaution: Consult a healthcare professional before use if pregnant, possibly pregnant, or planning pregnancy.
Al Shifa Athra Capsules are a traditional herbal formulation developed for women’s reproductive health and wellness concerns traditionally described as Athra (اٹھرا) in Unani and herbal medicine.
Presented by Al Shifa Natural Herbal, this formulation draws on 25 years of practical experience in herbal care and is intended for women seeking traditional herbal support for reproductive wellbeing, maternal wellness, and concerns associated with Athra.
The formulation focuses on female reproductive wellness, maternal health, and traditional herbal care for Athra-related concerns.
Traditionally used in Unani herbal practice for women’s health concerns commonly described as Athra.
Developed for women seeking traditional herbal support for their overall reproductive health and wellbeing.
Traditionally associated with women’s maternal health and reproductive wellness concerns.
Traditionally valued in herbal practice by women seeking support for their reproductive wellness and family-planning goals.
A traditional herbal formulation developed for women focusing on their overall health, physical wellbeing, and reproductive wellness.
Athra is a term used in traditional Unani and South Asian herbal practice for certain concerns involving women’s reproductive and maternal health.
The term may be used for different reproductive or pregnancy-related concerns and does not identify one specific modern medical condition.
Women experiencing difficulty conceiving, repeated pregnancy loss, or other reproductive concerns may benefit from identifying the underlying cause through appropriate medical evaluation.
Al Shifa Athra Capsules are traditionally associated with Athra-related women’s wellness concerns.
Women’s reproductive health is influenced by several factors, including general health, nutrition, hormonal function, and individual medical history.
Maintaining overall reproductive health is an important part of women’s wellbeing.
Good nutrition, appropriate healthcare, and a healthy lifestyle are important when planning a pregnancy.
Understanding menstrual cycles and reproductive health can help women make informed family-planning decisions.
Adequate nutrition, proper rest, and balanced daily habits contribute to women’s overall wellbeing.
Al Shifa Natural Herbal – Trusted Since 1999
Al Shifa Athra Capsules are part of our traditional herbal product range, developed for women’s reproductive and maternal wellness concerns.
Traditional Dosage:
Take each capsule one hour after meals with water.
Complete Course Duration: 45 Days
Pregnancy Precaution: Women who are pregnant, may be pregnant, or are planning pregnancy should consult a qualified healthcare professional before using this formulation. Ingredient safety during pregnancy has not been established.
Product Name: Al Shifa Athra Capsules
Product Category: Female Reproductive & Fertility Wellness Herbal Capsules
Product Form: Capsules
Formulation Type: Traditional Herbal Formula
Traditional Applications: Athra-Related Concerns, Female Reproductive Wellness, Maternal Health & Fertility Wellness Support
Dosage: 1 Capsule Morning & 1 Capsule Night, One Hour After Meals With Water
Complete Course Duration: 45 Days
Brand: Al Shifa Natural Herbal
Brand Heritage: Trusted Since 1999
Al Shifa Natural Herbal Dawakhana.
الشفاء، اٹھرا کیپسول۔
Al Shifa, Athra Capsules.
فوائد : اٹھرا کے تمام امراض کےلیے مفید دواـ
انشاء اللہ گود ہری بھری ہوگی۔
مقدارخوراک : ایک کیپسول صبح ایک کیپسول رات کھانے کے ایک گھنٹہ بعد پانی کیساتھ استعمال کریں ـ
دوا برائے 45 یوم مکمل کورس ـ
مشورہ کیلئے رابطہ کر سکتے ہیں۔
:پرہیز
آلو، گوبھی، بندگوبھی، شملہ مرچ، اروی، بھنڈی توری، مونگرے، مٹر، بڑاگوشت، سری پائے، کلیجی، دال چنا، دال ماش، ارہر کی دال،تمام مشروبات، کولڈڈرنکس و غیرہ، ٹھنڈا پانی اوربرف، ٹھنڈا دودھ، سیب، کیلا، مالٹا، کینو، ہرطرح کی، تلی ہوئی اورفرائی چیزیں، چاو ل، پنیر، چیز، تمام بیکری آ ئٹم ہرطرح کی
سفیدچنے، نان، خمیری، روٹی، چائے اورگرین ٹی، کھٹی اورچٹپٹی چیزیں، بناسپتی گھی، کارن آئل، آئل بنولہ، سو یا بین آئل، مونگ پھلی، ملوک، فالسہ، جامن، چقندر، لوبیاسفید اور سرخ، تمام کھٹے میٹھے پھل، املی، آلو بخارا، تربوز، کانجی، دھی بھلے، آلو چنے، کھٹی لوکاٹ، سموسے، پکوڑے، چائے رس، باقر خانی، چائنیز کھانے، نوڈلز ، پاستہ، برگر، شوارما، وغیرہ۔
:مفیداشیاء
دیسی آٹے کی روٹی، انڈہ آملیٹ اور اُبلاہوا انڈہ، میٹھا انڈہ، ہاف فرائی اندہ، سرسوں کا ساگ، پالک، پودینے کی چٹنی، پیاز، میتھی، کریلے، شلجم سفید اور پیلے، گا جر کا سالن، کالے چنے شوربہ والے، بکرے کاگوشت شوربے والا، دیسی مرغی کا گو شت، فارمی مرغی کا گوشت
تیتر، بٹیر، مچھلی، لوکی، بکرے کے گوشت والا پلاؤ، نیم گرم دودھ،بکری کا دودھ، اونٹنی کا دودھ، ٹینڈے، گھیاکدو، حلوہ کدو، گھیاتوری، ٹماٹرپیازکا سالن، دیسی مرغی شوربے والی، شہد خالص، کھیرا، مولی، گاجر، دہی، تازہ مکھن۔
مفید : خشک میوہ جات۔
میٹھابادام، اخروٹ (دوسے زیادہ نہیں) تل سفید، کشمش، چلغوزے، ناریل خشک، کاجو، انجیر۔
مفید: مربہ جات۔
آملے کامربہ، ہڑہڑکامربہ، گلقند، گاجرکامربہ، ادرک کا مربہ۔
مفید: پھل۔
میٹھاآم، آڑو، میٹھا انگور، پپیتہ، شہتوت، گنا، خربوزہ، انناس،گ رما،سردا، خوبانی، میٹھی لوکاٹ، امرود بغیر بیج، ناشپاتی، عناب، کھجور۔
مفید: قہوہ جات۔
پودینے کا قہوہ، ادرک کا قہوہ، دارچینی کاقہوہ، کالے زیرہ کا قہوہ، اجوائن کا قہوہ۔
مفید: میٹھی چیزیں کھانے والی ۔
سوجی کاحلوہ دیسی گھی میں تیارشدہ، گاجر کا حلوہ، گاجر کی کھیر، چاول کی کھیر،فرنی،گڑوالے چاول زردہ چاول، گندم کا دلیہ دودھ میں تیارشدہ، سویاں دودھ والی۔
مفید : روغنیات آئل کھانے والے۔
روغن بادام، روغن سرسوں، روغن تل، روغن زیتون، روغن کلونجی، دیسی گھی۔
:معلومات اور علاج اٹھرا، اسقاط حمل
اٹھرا یہ 18 قسم کی بیماری ہوتی ہے جس میں بچہ پیدا ہونے کے چند منٹ یا چند گھنٹوں یا چند دنوں بعد مر جاتا ہےـ
:علامات
بچے کا مرنے سے پہلے رنگ تبدیل ہو جاتا ہے بچہ نیلے رنگ یا کالے رنگ کا ہو جاتا ہے بچے کے ناخن سبز یا نیلے رنگ میں تبدیل ہو جاتے ہیں اٹھرا والا بچہ پیٹ میں ضائع نہیں ہوتا بلکہ اپنی مدت پوری ہونے پر پیدا ہوتا ہے اور پیدا ہونے کے بعد وصال کر جاتا ہےـ
جن عورتوں کے بچے ایک ماہ یا دو ماہ یا پانچ ماہ یا سات ماہ بعد ضائع ہو جائیں ان کو اٹھرا نہیں بلکہ اسقاط حمل کا مسئلہ ہوتا ہے جس کی کئی وجوہات ہیں اٹھرا کیا چیز ہے یہ نہ تو سایہ کا مسئلہ ہے نہ کوئی جادو ٹونہ کچھ پیر اور تعویز کرنے والے ایسا کہتے ہیں ایسا کچھ نہیں بلکہ یہ خونی بیماری ہے ـ
ماں کے خون اور جسم میں زہریلے مادے اور فاسد اجزاء کی زیادتی ہے جو کہ بچے کو ماں کے پیٹ میں خوراک کے ذریعے منتقل ہوتی ہے جب بچہ پیدائش کے بعد بیرونی ماحول میں آجاتا ہے تو اس میں اتنی طاقت نہیں ہوتی کہ وہ باہر کے ماحول سے لڑ سکے اور اس طرح بچہ میں موجود فاسد مواد سے موت واقع ہو جاتی ہےـ ایک اور بھی وجہ ماں کے دودھ کا کڑواپن جو انہی زہریلے اجزاء کی وجہ سے ہوتا ہے اس دودھ کو پینے سے بھی بچہ مر جاتا ہے ان زہریلے مادے کے اخراج کے لیےـ
الشفاء، اٹھرا کیپسول اٹھرا کا، کامیاب علاج ہےـ
:اٹھرا کی حقیقت اور علاج
بانجھ پن کی طرح بے اولادی کی ایک ایسی حالت کا نام ہے جس میں اولاد پیدائش سے لے کرآٹھ سال تک مرجاتے ہیں اس میں اکثرخیال کیا جاتا ہے کہ اس کا تعلق جنات کے ساتھ یا کسی ایسی عورت کے سائے کا اثر ہوتا ہے جس جنات یا ایسے امراض کا اثر ہو اسی طرح بھوت پریت تعویز گنڈوں کا اثربھی خیال کیا جاتا ہےـ
:حقیقت
یہ ایک بدن انسانی کی خرابی کی وجہ سے جینز کی کمزو ری کی وجہ سے لا حق ہونے والی علامت ہے.جب تعویز گنڈاکرنے والے لوگوں کو لوٹ چکتے ہیں تو حکم صادر کردیتے ہیں جنات کے اثرات ختم کردئیے ہیں ابھی آپ علاج کروائیں بچہ ٹھیک پیدا ہوگا کچھ عطائ حکماء نے بھی لوٹ کا بازار گرم کررکھا ہےـ
:علامات
ایسی عورتوں کا جب باربار بغور مطالعہ کیا گیا تو ان میں خاص اقسام کی علامات پائی گئیں. جس میں پیشاب میں جلن اور تنگی، ہاتھ پاؤں کی جلن،نلوں میں جلن جیسے وہاں زخم ہوں اکثرقبض خشکی پیٹ و رحم کی جکڑن رحم کی خارش، بعض کو دانے پھنسیاں بھی نکلتے ہیں ـ
طبیعت میں غصہ کسی بات برداشت نہ ہونا گھربھرسے ناراض رہنا بچہ جو وضع حمل کے دنوں میں گر جاتا ہے یا پیدا ہوتا ہے تو اس میں خون کی انتہائی کمی نظرآتی ہے سوکھا کمزور بعض کے جسم پہ دانے پیروں اور ہاتھوں کی جلد نیلاہٹ مائل بعض بچوں میں سوزاک کی علامات بھی دیکھی جاتی ہیں ـ
بعض بچے کی آنکھیں میں سیاہی پھیلی ہوتی ہے بعض بچے پیدا تو تندرست ہوتے ہیں مگر تین چاردن میں کمزور ہونا شروع ہو جاتے ہیں ـ
اٹھراہ کا فوری مستقل علاج، الشفاء، اٹھرا کیپسول ـ
اٹھرا یعنی حمل مکمل ہونے سے پہلے ہی اسقاط ہو جاناـ
یہ سخت نا مراد مرض ہے، جس کی وجہ سے عورتوں کے بچے دوران حمل یا پیدائش کے کچھ عرصے بعد ضائع ہو جاتے ہیں اس مرض میں عورتوں کو حمل ٹھہرتے ہی جلد اسقاط ہو جاتا ہے یا مردہ بچہ پیدا ہوتا ہےـ اگر بچہ زندہ پیدا ہو، تو طرح طرح کے امراض میں مبتلا ہو کر آخر چل بستا ہے مثلاً سوکھے کی حالت میں، ام الصبیان (بچوں کی مرگی) فساد خون یا سرخبادہ وغیرہ ـ
اس بیماری میں بعض عورتوں کے رحم میں ایسی خرابی جنم لیتی ہے کہ آٹھویں ماہ حمل گر پڑتا ہے اور بچہ مرا ہوا پیدا ہوتا ہے حمل کے ساتویں ماہ پیدا ہونے والا بچہ زندہ تو رہتا ہے لیکن طبعاً کمزور ہوتا ہے مگر آٹھویں ماہ والے کے بچنے کے آثار بہت کم ہوتے ہیں۔ اگر بچہ پوری مدت کے بعد پیدا ہو، تو بھی پیدائش کے آٹھویں دن، آٹھویں ہفتے، آٹھویں ماہ یا آٹھویں سال فوت ہو جاتا ہے یہ بیماری اسقاط حمل کی طرح عورتوں کے لیے نہایت تکلیف دہ ہے۔
توہم پرستوں کا خیال ہے کہ جس عورت کا بچہ اس مرض سے بچ جائے، اگر اس کا سایہ دوسری عورت پر پڑے، تو اسے بھی یہ مرض لاحق ہو جاتا ہے۔ یہ بات خلافِ حقیقت ہے۔
دراصل اس بیماری کی اصل وجہ مرد کے مادہ کا کمزور ہونا ہے۔ اس وجہ سے حمل گر جاتا ہے۔ بالفرض نہ بھی گرے، تو بچہ اتنا کمزور ہوتا ہےـ کہ زندہ نہیں رہ پاتا۔ یہ مرض جنم لینے کے اہم اسباب میں سؤ مزاج رحم، ضعف رحم، رقت اور قلتِ خون، عام جسمانی کمزوری یا دماغی خرابی مرگی، جنون، مالیخولیا یا فساد خو ن کی وجہ سے پیدا ہونے والے امراض شامل ہیں۔ خون کی قلت، رقت یا عام کمزوری کی وجہ سے چہرہ زردی مائل یا بالکل سفید ہو جاتا ہے۔
بعض عورتوں کی پسلی کے نیچے ہلکا سا درد ہوتا ہے چاہے حمل ہو یا نہ ہو۔ ایسی خواتین کا تو حمل گر جاتا ہے یا خاص عمر میں پہنچ کر اولاد فوت ہو جاتی ہے یا پیٹ کے اندر بچہ سوکھ جاتا ہے۔
بعض عورتوں کے گھر اولاد نہیں ہوتی اور کچھ کے ہاں جنم لے کر فوت ہو جاتی ہے اور عمر طبعی کو نہیں پہنچتی۔ بعض کے لڑکیاں پیدا ہوتی ہیں اور نرینہ اولاد جنم نہیں لیتی۔ اس حالت کو اٹھراہ کہتے ہیں۔
علاج یہ ہے کہ دوران حمل مصفی خون اشیاء کا استعمال بہ کثرت کیا جائے، اس سے بچہ تندرست پیدا ہوتا ہے، لیکن بچے کی پیدائش کے بعد قلیل مقدار میں وہی دوا بچے کو بھی کھلانی چاہیے۔ بعض اوقات سوزاک یا آتشک کے زہریلے مادے اٹھراہ کا سبب ہوتے ہیں، تب ان کا علاج کرنا چاہیے۔
اٹھراہ کا شروع میں تو علم ہی نہیں ہوتا، جب دو تین بچے مر جائیں تب پتا چلتا ہے کہ اس کا سبب کیا ہے۔ جدید سائنس اور ڈاکٹروں کے پا س اس کا علاج نہیں کیونکہ کوئی ڈاکٹر اس مرض کے جراثیم تلاش نہیں کر سکا۔
اٹھراہ کا مرض ان خاندانوں میں پایا جاتا ہے جن میں کسی نہ کسی شکل میں سوزاک کا اثر ہو۔ یہ اثر باپ کی طرف سے اولاد میں منتقل ہوتا ہے۔ تاہم پہلے بیوی پر اثر انداز ہوتا ہے۔ ایسے میاں بیوی کو اول تو اولاد ہی پیدا نہیں ہوتی اور اگر ہو بھی تو زندہ نہیں رہتی۔ اگر انتہائی جدوجہد سے بچ جائے، تو اس کی آئندہ نسلوں میں اٹھراہ کا مرض ضرور جنم لیتا ہے۔
یہ بات نہایت اہم ہے کہ عورتوں میں یہ خرابی مردوں کی طرف سے آتی ہے، اس لیے لازم ہے کہ مردوں کا بھی علاج کرایا جائے۔ اٹھراہ میں مبتلا عورتوں کا جب معائنہ کیا گیا تو ان میں درج ذیل علامات پائی گئیں ـ
پیشاب کے دوران جلن، ہاتھ پاؤں یا بغلوں میں جلن اور وہاں زخم ہونے کا احساس، شدید قسم کی قبض یا خشکی، یوں محسوس ہو کہ رحم کے گرد کسی نے کس کر پٹی باندھ دی، چہرے پر دانے، خارش یا پھوڑے پھنسی، گلے میں زخم، مستقل نزلہ رہنا ـ
آنکھوں میں جلن، باؤ گولہ، اختناق الرحم، طبیعت میں چڑ چڑا ہٹ، غصہ کسی کی بات برداشت نہ کرنا اور گھر کے ہر فرد سے ناراضی کی کیفیت ایسی خواتین کے بچے ہو بھی جائیں، تو سوکھے سڑے اور خلقی طور پر بیمار ہوتے ہیں۔
جسم پر دانے، زخم یا پھنسیاں اور ہاتھ پائوں ٹیڑھے میڑھے۔ بعض بچوں میں پیدائشی طور پر سوزاک کی علامتیں موجود ہوتی ہیں۔ بعض عورتوں کے اندھے بچے پیدا ہوئے اور بعض کے آٹھ دن، آٹھ ہفتے یا آٹھ ماہ میں اندھے ہو گئے۔
ضروری نہیں کہ اٹھراہ کی تمام مریضاؤں میں سبھی درج بالا علامتیں موجود ہوں، کسی میں ایک، کسی میں دو اور کسی میں زیادہ علامتیں بھی پائی گئی ہیں ـ