Al Shifa Uric Acid & Cholesterol Capsules – Herbal Uric Acid & Cholesterol Management Support
Al Shifa Uric Acid & Cholesterol Capsules are a traditional herbal formulation developed to support healthy uric acid and cholesterol management.
Key Benefits:
Dosage: 1 capsule in the morning and 1 capsule at night, one hour after meals with water.
Course Duration: 1 Month
Brand: Al Shifa Natural Herbal – Trusted Since 1999
Home Delivery: Available Across Pakistan.
Al Shifa Uric Acid & Cholesterol Capsules are a traditional herbal formulation developed to support healthy uric acid and cholesterol management. Presented by Al Shifa Natural Herbal, this formulation draws on 25 years of practical experience in herbal care.
The formula is traditionally used for concerns involving elevated uric acid and cholesterol levels. It is intended to complement a balanced diet, healthy lifestyle, and regular monitoring of uric acid and blood cholesterol levels.
Traditionally used in herbal practice for concerns involving elevated uric acid levels and general uric acid balance.
Traditionally used for concerns involving elevated cholesterol levels and maintaining healthy cholesterol balance.
Developed as a traditional herbal formulation for individuals focusing on maintaining uric acid levels within a healthy range.
Traditionally valued for supporting cholesterol management as part of a balanced diet and healthy lifestyle.
Designed for adults seeking traditional herbal support for uric acid and cholesterol-related wellness concerns.
A convenient herbal capsule formulation for individuals maintaining a regular wellness routine focused on uric acid and cholesterol health.
Uric acid is a natural waste product formed when the body breaks down substances called purines.
Purines occur naturally in the body and are also found in certain foods. Uric acid normally dissolves in the blood, passes through the kidneys, and leaves the body through urine.
When uric acid levels become elevated, the condition is known as Hyperuricemia.
Cholesterol is a waxy, fat-like substance naturally present in the body. It plays an important role in normal cellular functions and hormone production.
However, elevated levels of certain blood cholesterol components can increase cardiovascular health risks.
1. Total Cholesterol
Measures the overall amount of cholesterol in the blood.
2. LDL Cholesterol
Often called bad cholesterol because elevated levels can contribute to plaque buildup in arteries.
3. HDL Cholesterol
Often called good cholesterol because it helps transport cholesterol from the bloodstream to the liver.
4. Triglycerides
A type of blood fat commonly measured alongside cholesterol in a lipid profile.
Al Shifa Uric Acid & Cholesterol Capsules are traditionally used for cholesterol-related wellness concerns. Their effectiveness in lowering LDL cholesterol.
A balanced lifestyle plays an important role in maintaining healthy uric acid and cholesterol levels.
Al Shifa Natural Herbal – Trusted Since 1999
Al Shifa Uric Acid & Cholesterol Capsules are part of our traditional herbal medicine range, developed for adults focusing on uric acid and cholesterol-related wellness.
Dosage:
Take each capsule one hour after meals with water.
Course Duration: 1 Month
Product Name: Al Shifa Uric Acid & Cholesterol Capsules
Product Category: Uric Acid & Cholesterol Management Herbal Capsules
Product Form: Capsules
Traditional Applications: Elevated Uric Acid Concerns, Uric Acid Balance, Elevated Cholesterol Concerns, Cholesterol Balance & Metabolic Wellness Support
Dosage: 1 Capsule Morning & 1 Capsule Night, One Hour After Meals With Water
Course Duration: 1 Month
Brand: Al Shifa Natural Herbal
Brand Heritage: Trusted Since 1999
Availability: Home Delivery Across Pakistan
Al Shifa Natural Herbal Dawakhana.
الشفاء، یورک ایسڈ کولیسٹرول کیپسول۔
Al Shifa, Uric acid – Cholesterol Capsules.
فوائد: یورک ایسڈ، کولیسٹرول کیلئے مفید دواء۔
مقدارخوراک : ایک کیپسول صبح، ایک کیپسول، رات کھانے کے ایک گھنٹہ بعد پانی کیساتھ استعمال کریں۔
دواء برائے ایک ماہ۔
ہوم ڈلیوری آل پاکستان
حکیم محمد عرفان، فاضل طب والجراحت، رجسٹرڈ۔
مشورہ کیلئے رابطہ کر سکتے ہیں۔
معلومات
یورک ایسڈ و جوہات اورعلامات۔
یورک ایسڈ ایک قدرتی فضلہ یا تیزابی مادہ ہے جو ہر انسان میں پایا جاتا ہے۔ یہ مادہ پیشاب کے ذریعے جسم سے خارج ہوتا رہتا ہے اور اس کا اصل کام جسم میں گرمی پیدا کرنا ہوتا ہے۔ یہ پیورین کی وجہ سے ہر روز جسم میں بنتا ہے۔
پیورین ایک کیمیائی مادہ ہے جو ہمارے جسم میں خلیوں کے ٹوٹنے سے قدرتی طور پر بنتا ہے جب کہ اس کا کچھ حصہ غذا سے بھی پیدا ہوتا ہے۔ خون میں یورک ایسڈ کی موجودگی معمول کی بات ہے لیکن اگر اس کا لیول صحت مند سطح سے بڑھ جائے تو یہ ہائی بلڈ پریشر اور ذیابیطس ٹائپ ٹو کا باعث بن سکتا ہے۔
یورک ایسڈ میں اضافہ صرف غذا سے نہیں ہوتا بلکہ مجموعی طرزِ زندگی اس میں اضافے کا سبب بنتی ہے۔ جب یورک ایسڈ کا پیشاب کے ذریعے جسم سے اخراج نہیں ہوپاتا تو یہ کرسٹل کی صورت میں جوڑوں میں جمع ہونے لگتا ہے جس کی وجہ سے اٹھنے، بیٹھنے، اور چلنے پھرنے میں مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ان مسائل سے بچاؤ کی واحد صورت یہی ہوتی ہے کہ یورک ایسڈ کے لیول کا خیال رکھا جائے اور اس کو نارمل سطح سے بڑھنے نہ دیا جائے۔
یورک ایسڈ کا نارمل لیول کتنا ہوتا ہے۔
مردوں میں یورک ایسڈ کی مقدار، تین 3 سے سات 7 ملی گرام، عورتوں میں یورک ایسڈ کی مقدار، دو 2 سے چھ 6 ملی گرام یورک ایسڈ کا نارمل لیول جوڑوں کے مسائل کا سبب نہیں بنتا اس کے برعکس اگرجسم میں اضافی پیو بننے یا گردوں کی ناقص کارکردگی سے یورک ایسڈ میں اضافہ ہو جائے تو اس سے چھٹکارا پانا قدرے مشکل ہو جاتا ہے۔
یورک ایسڈ بڑھنے کی اور بھی بہت سی وجوہات ہو سکتی ہیں۔
یورک ایسڈ کی وجوہات: یورک ایسڈ کی علامات۔
یورک ایسڈ کا علاج۔
فائبر کا استعمال۔
بیکنگ سوڈا۔
لیموں۔
سرکہ۔
وزن میں کمی۔
پانی کا زیادہ استعمال۔
اجوائن کا استعمال۔
اینٹی آکسیڈنٹس سے بھرپور سبزیاں۔
یورک ایسڈ کی وجوہات
یورک ایسڈ بڑھنے کی وجوہات مندرجہ ذیل ہو سکتی ہیں
چنبل، جلد کی بیماری۔
ذہنی دباؤ۔
گردوں کی بیماری۔
ورزش نہ کرنا۔
کینسر کا علاج ہورہا ہوتو۔
گوشت کا زیادہ استعمال۔
الکوحل کا زیادہ استعمال۔
سیگرٹ نوشی۔
موٹاپا۔
جینیاتی مسائل۔
:یورک ایسڈ کی علامات مندرجہ ذیل ہو سکتی ہیں
: یورک ایسڈ کی علامات
جوڑوں میں شدید درد اٹھنے، بیٹھنے، اور چلنے پھرنے میں مشکلات جوڑوں میں سرخی یا سوزش گٹھیا پیر کے انگوٹھوں میں سوزش جوڑوں میں کھنچاؤ اگرآپ کو یورک ایسڈ کی ان علامات یا ان میں سے کسی بھی علامت کا سامنا ہو تو آپ کو مندرجہ ذیل غذائیں چھوڑنا ہوں گی کیوں کہ ان غذاؤں کی وجہ سے یورک ایسڈ بڑھ سکتا ہے۔
ان غذاؤں سے مکمل پرہیز یا ان کے استعمال میں کمی سے یورک ایسڈ کنٹرول کرنے میں مدد ملے گی۔
خشک پھلیاں۔
مٹر۔
گوشت۔
گوبھی۔
مچھلی۔
مشروم۔
اس کے علاہ کچھ تحقیقات سے ثابت ہوا کہ ایسی غذائیں جن میں شکر (فرکٹوز) زیادہ ہوتی ہے وہ بھی یورک ایسڈ کی مقدار بڑھا سکتی ہیں۔
چینی کی ذیادتی سے بچیں اسی طرح فروٹ، جوسز، اور سافٹ ڈرنکس میں بھی کافی مقدار میں شکر ہوتی ہے جو جسم میں تیزی سے جذب ہوتی ہے اس لیے ان اشیاء سے پرہیز بھی لازمی کرنا ہو گا۔ اس کے ساتھ ساتھ یورک ایسڈ بڑھنے کی صورت میں کچھ مفید گھریلو علاج بھی مفید ثابت ہوتے ہیں۔
:یورک ایسڈ کا دیسی علاج
اگر آپ کا یورک ایسڈ بڑھ گیا ہے تو ان ہدایات پر عمل کر کے آپ آسانی کے ساتھ اس میں کمی لا سکتے ہیں۔
: فائبر کا استعمال
ایسی غذائیں، جن میں فائبر زیادہ مقدار میں موجود ہو، استعمال کرنے سے یورک ایسڈ کے لیول میں کمی آتی ہے۔نان غذاؤں میں دلیہ، جو، اسپغول، سیب، بروکلی، کھیرا، گاجر، اور کیلا وغیرہ شامل ہیں۔
یہ وہ غذائیں ہیں جن کے کھانے سے زیادہ پیشاب آتا ہے اور قبض دور ہوتی ہے جس سے یورک ایسڈ کا اخراج ممکن ہوتا ہے۔ اس لیے روزانہ پانچ سے دس گرام فائبر کو اپنی خوراک کا حصہ لازمی بنائیں۔
بیکنگ سوڈا۔
بیکنگ سوڈا یورک ایسڈ کے لیول اور جوڑوں کے درد کو کم کرنے میں نہایت مفید ثابت ہوتا ہے۔ یہ سوڈا یورک ایسڈ کے کرسٹلز کو پگھلانےے اور گردوں کے ذریعے باہر نکالنے میں مدد کرتا ہے۔ آدھا چمچ بیکنگ سوڈا ایک گلاس پانی میں حل کر کے دن میں ایک مرتبہ استعمال کرنے سے یورک ایسڈ کی مقدار میں کمی آتی ہے۔
تاہم ایسے افراد جن کی عمر ساٹھ سال سے زیادہ ہو یا بلڈ پریشر کے مریض ہوں تو ڈاکٹر کے مشورے کے مطابق اس گھریلو علاج پر عمل کریں۔
لیموں۔
لیموں کا رس الکلائن اور وٹامن سی سے بھرپور ہوتا ہے۔ اس کا عرق تیزابی خصوصیات کا حامل ہوتا ہے لیکن وٹامن سی کی وجہ سے فوری پر یورک ایسڈ کو کنٹرول کرتا ہے۔
آدھا لیموں ایک گلاس نیم گرم پانی میں نچوڑ کر پینے سے یورک ایسڈ کے لیول میں کمی آتی ہے۔ لیموں اور پانی کے محلول کو صبح نہار منہ ایک مہینہ تک استعمال کرنے سے مفید نتائج حاصل ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ طبیب کے مشورے سے وٹامن سی کے سپلیمنٹ بھی استعمال کیے جا سکتے ہیں۔
سرکہ۔
سرکہ قدرتی طور پر ایک ڈی ٹاکسیفائر ہے جو جسم سے فاضل مادے جن میں یورک ایسڈ بھی شامل ہے خارج کرنے میں مدد فراہم کرتا ہے۔
سرکہ میں موجود میلک ایسڈ یورک ایسڈ کے کرسٹلز کو توڑ کے پیشاب کے ذریعے باہر نکالتا ہے۔ ایک گلاس پانی میں ایک چمچ خالص سرکہ شامل کر کے چارہفتے تک استعمال کرنے سے یورک ایسڈ کے لیول میں کمی آتی ہے۔
وزن میں کمی۔
غذاؤں کے ساتھ اضافی وزن بھی یورک ایسڈ کے لیول میں اضافہ کرتا ہے کیوں کہ مسلز کی نسبت فیٹس یورک ایسڈ زیادہ بناتے ہیں۔ اسی طرح وزن کی زیادتی سے بھی گردوں کی کارکردگی متاثر ہوتی ہے۔ فوری طور پر وزن میں کمی یورک ایسڈ کا لیول کم کرنے میں مددگار ثابت ہو گی۔
پانی کا زیادہ استعمال۔
پانی زیادہ استعمال کرنے سے جسم میں موجود یورک ایسڈ جیسے فاضل مادوں کے اخراج میں مدد ملتی ہے۔ یہ مادے خارج ہونے سے گٹھیا کی علامات میں بھی کمی آتی ہے۔ ماہرین کے مطابق ہر روز دس سے بارہ گلاس پانی پینے سے یورک ایسڈ کا لیول کم کرنے میں مدد ملے گی۔
اجوائن کا ستعمال۔
اجوائن میں وافر مقدار میں اومیگا سکس فیٹی ایسڈ پایا جاتا ہے جو نظامِ انہضام کی صفائی میں اہم کردار ادا کرنے کے ساتھ ساتھ جسم کو یورک ایسڈ سے بھی نجات دلانے میں مدد فراہم کرتا ہے۔
اینٹی آکسیڈنٹس سے بھرپورسبزیاں۔
اینٹی آکسیڈنٹس سے بھرپورسبزیاں اور پھل سوزش کو کم کرنے میں مفید ثابت ہوتے ہیں۔ اس کے ساتھ یہ پھل اور سبزیاں تیزاب کی سطح کو بھی متوازن رکھتے ہیں۔یورک ایسڈ کی علامات اگر کچھ دنوں تک بہتر نہیں ہوتیں تو آپ کو کسی معالج سے رجوع کرنا ہو گا
ہماری: تیار شدہ ادویات لینے کیلئے اوراپنی بیماری کے لیے مشورہ حاصل کریں۔