Al Shifa Pathri Gurda Capsules are a specially formulated herbal kidney wellness supplement designed to support kidney health, natural urinary cleansing, and overall urinary tract wellbeing. Inspired by traditional herbal knowledge, this formula promotes healthy urinary flow, kidney comfort, and natural urinary system function.
Key Benefits:
Recommended Course: 20 Days
Brand: Al Shifa Natural Herbal – Trusted Since 1999
Delivery: Available Across Pakistan
Al Shifa Pathri Gurda Capsules are a specially formulated herbal product developed to support kidney health, urinary wellness, and the body’s natural urinary cleansing process. Inspired by traditional herbal practices, this formula combines the value of herbal care with a focus on kidney comfort, healthy urinary flow, and overall urinary system wellbeing.
Al Shifa Pathri Gurda Capsules are designed for individuals seeking natural herbal support for kidney stone management and maintaining healthy kidney function.
A traditional herbal formula intended to support the body’s natural processes involved in kidney stone management and urinary wellness.
Traditionally used to support kidney comfort and maintain a healthy, comfortable urinary system.
Helps promote the body’s natural urinary cleansing process by supporting normal urine flow and urinary system wellness.
Formulated to complement healthy urinary function and promote the natural passage of urine.
Provides traditional herbal support for maintaining overall kidney and urinary tract wellbeing.
Designed to support everyday urinary comfort and complement a healthy urinary wellness routine.
A herbal wellness formula developed to complement the kidneys’ natural role in maintaining fluid balance and eliminating waste through urine.
Inspired by traditional herbal knowledge, Al Shifa Pathri Gurda Capsules offer a convenient approach to supporting kidney and urinary health.
Al Shifa Natural Herbal – Trusted Since 1999
Al Shifa Natural Herbal has been dedicated to providing herbal products and natural wellness solutions since 1999.
Al Shifa Pathri Gurda Capsules reflect our commitment to traditional herbal knowledge, product quality, and customer satisfaction.
Suggested Dosage:
Take with water, preferably one hour after meals or two hours before meals, as directed by your qualified healthcare professional.
Course Duration: 20 Days
Product Name: Al Shifa Pathri Gurda Capsules
Product Category: Herbal Kidney & Urinary Wellness Support
Product Form: Capsules
Traditional Application: Kidney Stone Management and Urinary System Support
Brand: Al Shifa Natural Herbal
Recommended Course: 20 Days
Availability: Home Delivery Across Pakistan
Hakeem Muhammad Irfan
Fazil-e-Tibb Wal-Jarahat (Registered)
For product information and consultation, contact:
Helpline & WhatsApp: 030 40 50 60 70
Discover traditional herbal care with Al Shifa Pathri Gurda Capsules, a specialized herbal wellness formula created to support kidney comfort, natural urinary cleansing, healthy urinary flow, and overall urinary system wellbeing.
الشفاء، پتھری گردہ کیپسول۔
Al Shifa, Pathri Gurda Capsules.
Kidney Stone Removal Herbal Medicine.
فوائد ِ: درد گردہ کو فوری آرام، پتھری گردہ ریزہ ریزہ ہو کر بغیر کسی تکلیف کے نکل جاتی ہے۔ گردہ کی پتھریوں کو نکالنے کیلئے مفید دواء۔
مقدارخوراک : ایک کیپسول صبح، ایک کیپسول دوپہر،ایک کیپسول رات، کھانے کے ایک گھنٹہ بعد یا کھانے کے دو گھنٹہ پہلے پانی کیساتھ استعمال کریں۔
دوا برائے 20 یوم مکمل کورس۔
ہوم ڈلیوری آل پاکستان۔
حکیم محمد عرفان، فاضل طب والجراحت، رجسٹرڈ۔
مشورہ کیلئے رابطہ کر سکتے ہیں۔
: گردے کی پتھریاں، اقسام، اسباب، علامات اورعلاج
گردے کی پتھری ایک ٹھوس چیز ہے جو پیشاب میں موجود کیمیکلز سے بنتی ہے۔
گردے کی پتھری کی چار اقسام ہیں۔
کیلشیم آکسالیٹ۔
یورک ایسڈ۔
سٹروائٹ۔
سیسٹائن۔
عام علامات میں کمر کے نچلے حصے میں شدید درد، پیشاب میں خون، متلی، قے، بخار اور سردی لگنا، یا پیشاب سے بدبو آتی ہو یا دھندلا نظر آتا ہے۔
پیشاب میں مختلف اقسام کے فضلات گھلے ہوتے ہیں۔ جب کم مائع میں بہت زیادہ فضلات ہوں تو عمل قلماو کے تحت ان فضلات کے کرسٹل بننا شروع ہوجاتے ہیں۔ کرسٹل دوسرے عناصرکو راغب کرتے ہیں اور ایک دوسرے کے ساتھ مل کر بڑے ٹھوس ذرات بناتے جاتے ہیں۔ یہاں تک کہ یہ پیشاب کے ساتھ جسم سے باہر نہیں نکل سکتے۔
عام طور پ یہ کیمیکل جسم کے ماسٹر کیمسٹ گردے کے ذریعے پیشاب میں خارج ہوتے رہتے ہیں۔ زیادہ تر لوگوں کے جسم میں کافی مقدار میں مائع انہیں گھول کر خارج کردیتا ہے یا پیشاب میں دیگر کیمیکل پتھری بننے سے روکتے ہیں۔ پتھری بنانے والے کیمیکل کیلشیم آکسالیٹ، یوریٹ ، سیسٹائن، زانتھائن اور فاسفیٹ ہیں۔
پتھری بننے کے بعد گردے میں رک سکتی ہے یا پیشاب کی نالی سے نیچے کی طرف اتر سکتی ہے۔ بعض اوقات، چھوٹی پتھریاں پیشاب میں بہت زیادہ درد پیدا کیے بغیر جسم سے باہر نکل جاتی ہیں۔ لیکن جو پتھر حرکت نہیں کرتے وہ گردے، حالبین، مثانے یا پیشاب کی نالی (یوریتھرا) میں پیشاب کے بیک اپ (ھائیڈرو نیفروسس) کا سبب بن سکتے ہیں۔ اور یہی درد کا سبب بنتا ہے۔
: گردے کی پتھری کی وجوہات
ممکنہ وجوہات میں بہت کم پانی پینا، ورزش (بہت زیادہ یا بہت کم) کرنا، موٹاپا، وزن میں کمی کی سرجری کروانا، یا بہت زیادہ نمک یا چینی والی خوراک کھانا شامل ہیں۔ انفیکشن اور خاندانی ہسٹری بھی کچھ لوگوں میں اہم ہوسکتی ہے۔ بہت زیادہ فروکٹوز کھانے سے گردے میں پتھری پیدا ہونے کے بڑھتے ہوئے خطرے کا تعلق ہے۔ (فریکٹوز) چینی اور مکئی کے شربت میں پایا جاتا ہے۔
: پتھریوں کی چار اہم اقسام ہیں
نمبر1: کیلشیم آکسالیٹ، گردے کی پتھری کی سب سے عام پائی جانے والی قسم ہے جو اس وقت پیدا ہوتی ہے جب پیشاب میں کیلشیم اور آکسالیٹ باہم مل جاتے ہیں۔ ناکافی کیلشیم اور سیال کی مقدار کے ساتھ ساتھ دیگر حالات بھی ان کی تشکیل میں معاون ثابت ہو سکتے ہیں۔
نمبر2: یورک ایسڈ۔
یہ گوشت خور افراد میں گردے کی پتھری کی ایک عام قسم ہے۔ کھانے کی چیزیں جیسے اعضاء کا گوشت اور شیل فش میں ایک قدرتی کیمیائی مرکب پیورین کی زیادہ مقدار ہوتی ہے۔ جو مونوسوڈیم یوریٹ کی زیادہ پیداوار کا باعث بنتی ہے جو مناسب حالات میں گردوں میں پتھری بنتی ہے۔ اس قسم کی پتھریوں کی تشکیل خاندانوں میں وراثتا بھی چلتی ہے۔
نمبر3 : سٹروواٹی۔
یہ پتھریاں کم ہوتی ہیں اور گردے کے نچلے حصے میں انفیکشن کی وجہ سے پیدا ہوتی ہیں۔
نمبر4 : سسٹائین۔
یہ پتھریاں نایاب ہیں اور خاندانوں میں وراثتا چلتی ہیں۔
: گردے کی پتھریوں کی علامات
کچھ گردے کی پتھریاں ریت کے زرے کی طرح چھوٹی ہوتی ہیں۔ کچھ کنکر کی طرح بڑی ہوتی ہیں۔ کچھ گولف بال کی طرح بہت بڑی ہوتی ہیں عام اصول کے طور پر ، پتھر جتنا بڑا ہوتا ہے، علامات اتنی زیادہ نمایاں اور شدید ہوتی ہیں۔
علامات درج ذیل میں سے ایک یا زیادہ ہوسکتی ہیں۔
نمبر1: نچلی کمر کے دونوں طرف شدید درد۔
نمبر2: زیادہ شدید درد یا پیٹ کا درد نہیں ہوتا۔
نمبر3: پیشاب میں خون۔
نمبر4 : متلی یا قے۔
نمبر5: بخار اور سردی۔
نمبر6: پیشاب سے بدبو آنا یا گدلا ہونا۔
گردے کی پتھری اس وقت تکلیف دینے لگتی ہے جب یہ خراش یا رکاوٹ کا سبب بنتی ہے۔ یہ عمل تیزی سے تکلیف میں انتہائی اضافہ کرتا ہے۔ زیادہ تر معاملات میں گردے کی پتھری بغیر کسی نقصان کے گزر کر نکل جاتی ہے
درد سے نجات دہندہ ادویہ صرف چھوٹے پتھروں کے لیے ضروری ہیں۔ دوسرے علاج کی ضرورت ہوسکتی ہے خاص طور پران پتھریوں کے لیے جو دیرپا علامات یا دیگر پیچیدگیوں کا سبب بنتی ہیں۔ تاہم سنگین معاملات میں سرجری کی ضرورت پڑسکتی ہے۔
: گردے کی پتھری کی تشخیص
گردے کی پتھری کی تشخیص فیملی ہسٹری، جسمانی معائنہ اور امیجنگ ٹیسٹ سے شروع ہوتی ہے۔ معالج کیلیئے گردے کی پتھری کا صحیح سائز اورشکل جاننا ضروری ہے۔ یہ کام گردوں سے نیچے مثانے تک ایک ہائی ریزولوشن سی ٹی اسکین یا ایکس رے کے ذریعے کیا جا سکتا ہے جسے (گردے, حالبین نالی اور مثانہ کا ایکسرے) کہا جاتا ہے۔ گردوں کی صحت کا جائزہ خون اور پیشاب کے ٹیسٹ سے لیا جاتا ہے۔ مریض کی مجموعی صحت، اور پتھری کے سائز اور مقام پرغور کیا جاتا ہے
اسکے بعد پتھری کی وجہ تلاش کرنی چاہیئے۔ جسم سے باہر آنے کے بعد پتھری کا تجزیہ کیا جاتا ہے، اور خون میں کیلشیم ، فاسفورس اور یورک ایسڈ کی جانچ کی جاتی ہے۔ کیلشیم اور یورک ایسڈ کی جانچ کے لیے 24 گھنٹے کا پیشاب جمع کیا جاتا ہے۔
:پتھری کی کیمیکل جانچ کیوں کرنی ضروری ہے
پتھری کا مطالعہ یہ سمجھنے میں مدد دے سکتا ہے کہ یہ کیوں پیدا ہوئی ہے اور مزید پتھریوں کے خطرے کو کیسے کم کیا جائے۔ پتھری کی سب سے عام قسم کیلشیم پر مشتمل ہے۔ کیلشیم صحت مند غذا کا ایک عام حصہ ہے۔ گردے عام طور پر اضافی کیلشیم خارج کرتے ہیں جس کی جسم کو ضرورت نہیں ہوتی۔ اکثر پتھری والے لوگ بہت زیادہ کیلشیم رکھتے ہیں ان کا مزاج سوداوی ہوتا ہے۔ یہ کیلشیم دیگر فضلات مثلا آکسالیٹ کے ساتھ مل کر پتھری بناتا ہے۔ سب سے عام مجموعہ کیلشیم آکسالیٹ کہلاتا ہے۔
پتھریوں کی کم وقوع پزیر اقسام یہ ہیں: انفیکشن سے متعلق پتھر ، جس میں میگنیشیم اور امونیا ہوتا ہے جسے سٹروائٹ پتھر کہتے ہیں اور مونوسوڈیم یوریٹ کرسٹل سے بنے پتھر ، جسے یورک ایسڈ پتھر کہتے ہیں ، جو موٹاپے اور غذائی عوامل سے متعلق ہو سکتے ہیں۔ سسٹائن نایاب قسم کی پتھری ہے جو خاندانوں میں وراثتا چلتی ہے۔
: گردے کی پتھری کے طویل مدتی نتائج
گردے کی پتھری دائمی گردوں کی بیماری کے بڑھنے کا خطرہ بڑھاتی ہے۔ اگر ایک بار پتھری نکلی ہے تو دوسری بار پتھری ہونے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ جن لوگوں نے ایک پتھری تیار کی ہے ان میں 5 سے 7 سال کے اندر دوسری پتھری کی نشوونما کا خطرہ تقریبا 50 فیصد ہوتا ہے۔
: گردے کی پتھری کے خطرے کو کم کرنا
کافی سیال پینے سے پیشاب میں ضائع ہونے والی اشیاء کو کم مرتکز رکھنے میں مدد ملتی ہے۔ گاڑھا پیشاب زیادہ مرتکز ہوتا ہے، پیشاب ہلکا پیلا نظر آنا چاہیے۔ زیادہ تر لوگوں کو دن میں 12 گلاس سے زیادہ پانی پینا چاہیے۔ پانی کا استعمال, سوڈا, اسپورٹس ڈرنکس یا کافی/چائے سے بہتر ہے۔ اگر آپ ورزش کرتے ہیں یا باہر گرمی ہے تو آپ کو زیادہ پانی پینا چاہیے۔ شوگر اور ہائی فرکٹوز کارن شربت قلیل مقدار تک محدود ہونا چاہیے۔
زیادہ پھل اور سبزیاں کھائیں، جس سے پیشاب کم تیزابیت کا ہوتا ہے۔ پیشاب میں تیزابیت کم ہوتی ہے تو پتھری بننے کے چانس کم ہوجاتے ہیں۔ جانوروں کے گوشت کا پروٹین ایسا پیشاب پیدا کرتا ہے جس میں زیادہ تیزاب ہوتا ہے، جو گردے کی پتھری کا خطرہ بڑھا سکتا ہے۔ خوراک میں اضافی نمک کم کریں۔
وزن زیادہ ہو تو نارمل وزن کی کوشش کریں لیکن، ہائی پروٹین وزن میں کمی والی غذا جس میں جانوروں کے گوشت پرمبنی پروٹین کی زیادہ مقدارشامل ہوتی ہے، اسی طرح کریش ڈائیٹس پتھری بننے کے خطرے میں اضافہ کر سکتی ہیں۔ آپ کو مناسب پروٹین کی ضرورت ہے، لیکن متوازن غذا لینی چاہیئے۔
کیلشیم کی پتھری ہونے کے بارے میں الجھن میں نہ پڑیں۔ دودھ کی مصنوعات میں کیلشیم ہوتا ہے، لیکن وہ درحقیقت پتھری کو روکنے میں مدد کرتا ہے، کیونکہ کیلشیم گردوں میں داخل ہونے سے پہلے آکسیلیٹ سے جڑ جاتا ہے۔ کیلشیم کی کمی والے افراد میں گردے کی پتھری کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ ایک پتھری نمک، پروٹین کے فضلے اور پوٹاشیم سے بنتی ہے۔ گردے کی پتھری کی سب سے عام قسم کیلشیم آکسالیٹ ہے۔ زیادہ تر گردے کی پتھری اس وقت بنتی ہے جب آکسالیٹ ، بعض کھانے کی اشیاء سے بنی کیلشیم سے جڑ جاتا ہے کیونکہ پیشاب گردوں کے ذریعہ بنتا ہے۔ آکسالیٹ اور کیلشیم دونوں میں اضافہ ہوتا ہے۔
دو سب سے اہم وجوہات کافی مقدار میں سیال نہ پینا اور نمک کی مقدار زیادہ کھانا ہے۔ بچوں کو کم نمکین آلو کے چپس اور فرنچ فرائز کھانے چاہئیں۔ دیگر نمکین کھانے میں سینڈوچ گوشت، ڈبہ بند سوپ، پیکڈ کھانا، اور یہاں تک کہ کچھ سپورٹس ڈرنک۔ سوڈاس اور دیگر میٹھے مشروبات پتھریوں کا خطرہ بڑھاتے ہیں اگر ان میں زیادہ فروکٹوز کارن شربت ہو۔
: پتھریوں کا علاج
اگرپتھری کے زرات ریت کی طرح چھوٹے ہوں تو الشفاء، پتھری گردہ کیپسول۔ کی پہلی خوراک ہی کام کرجاتی ہے۔ پتھریاں ریزہ ریزہ ہوکر نکل جاتی ہیں۔
پتھریوں کےلیےالشفاء، پتھری گردہ کیپسول مکمل علاج ہے۔
پتھریوں کو توڑ دیتا ہے ریزہ ریزہ کر کے خارج کر دیتا ہے۔ زمانہ حال میں پتھریوں کا مشاہدہ زیادہ تر گرم خشک صفراوی مزاج کے افراد میں کیا گیا ہے کیونکہ گرم خشک مزاج گوشت خورافراد میں یوریٹ پتھریاں بنتی ہیں اور گردوں میں سوزش کے باعث نالیاں تنگ ہوکران پتھریوں کا اخراج بھی نہیں ہوتا اور اس طرح پتھریوں کے زرات مل کر بڑی پتھریاں تشکیل دیتے ہیں
الشفاء، پتھری گردہ کیپسول۔ پتھری نکالنے کے ساتھ ساتھ سوزش گردہ بھی دور کرتا ہے ہے۔